29 مارچ 2011 - 19:30

ایک ایسے وقت جب عالم اسلام بیداری کی ایک نئی لہر کا تجربہ کررہا ہے اور شمالی افریقہ سے لیکر مشرق وسطی تک مسلمان اپنے سیاسی اور مذہبی حقوق کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں امریکہ بدنام زمانہ پادری ٹیری جونز نے ایک دفعہ پھر قران کریم کی شان میں ناپاک جسارت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کی مسلمانوں کی جانب سے شدید الفاظ مذمت کی جارہی ہے۔

ابنا: ایران کے اسلامی تبلیغات کے ادارے سے وابستہ ادارہ دارالقرآن الکریم نے امریکی پادری کے ہاتھوں کلام اللہ مجید کی بے حرمتی پر مبنی غیراخلاقی اور گھناؤنی حرکت کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہاکہ عالم اسلام اس غیرالہی اور غیردینی حرکت کا ذمہ دار کلیسا اور ادیان الہی کے سچے ماننےوالوں نہيں کو سمجھتا بلکہ اس اقدام کو مختلف آسمانی ادیان کے درمیان اختلاف و تفرقہ پیدا کرنے کی صہیونی سازش سمجھتا ہے۔ ایران کے ادارہ دارالقرآن الکریم نے ملت ایران کی نمائندگی میں اس غیر اسلامی حرکت کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔ پاکستان کی سینٹ نے بھی قرارداد پاس کرکے قرآن کریم کی شان میں امریکی پادری ٹیری جونز کے بے شرمانہ اور گستاخانہ اقدام کی مذمت کی ہے ۔پاکستانی سینٹروں نے قرآن کریم کی شان میں اہانت کے اس اقدام کومسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے امریکی سازش قراردیا اور کہاکہ اس واقعہ پرامریکی حکومت کی خاموشی مجرمانہ اور قابل مذمت ہے۔ سینٹ کے ارکان نے قرآن کریم کی شان میں اہانت کی مذمت کرتے ہوئے عالم اسلام سی امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی اور کہاکہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے میں امریکی حکومت کا پورا ہاتھ ہے ۔امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک کلیسا کے شیطان صفت پادری ٹیری جونز نے چند دنوں قبل قرآن کریم کی اہانت کرتے ہوئے اس کی ایک جلد کو آگ لگادی جس پر عالم اسلام نے اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس مجرم کو سزا دئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے آزادی بیان اور انسانی حقوق کی حمایت کے دعوؤں کے باوجود اس گھناؤنے اقدام پر خاموشی اختیار کررکھی ہے اور اس خبر کو نشر کرنے سے گریز کررہے ہيں۔چند ماہ قبل گیارہ ستمبر کے مشکوک واقعات کے برسی کے موقع پر بھی امریکہ میں مختلف مقامات پر آخری آسمانی کتاب قرآن کریم کو نذر آتش کیا گيا جس سے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوۓ۔سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی آسمانی کتاب کی شان میں ناپاک جسارت کرنے والے ٹیری جونز کو اس کے اس جرم میں تنہا تصور کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب نہایت سادہ اور آسان ہے کتاب شیطانی آیات کے متد مصنف سلمان رشدی کی مانند ٹیری جونز کو بھی مغرب کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اس جرم میں حکومت امریکہ برابر کی شریک ہے ۔البتہ یہ گھناؤنا اقدام انجام دینے والے اس بات سے غافل ہیں کہ قرآن کریم کا نور ہر گز بجھایا نہیں جاسکتا ہے۔سامعین بلاشبہ قرآن کریم آخری آسمانی کتاب ہے جو بنی نوع انسان کے لۓ ایک جامع لائحۂ عمل لے کر آئي ہے۔ تاکہ لوگ سعادت کی چوٹیوں کو سر کرسکیں۔ قرآن کریم ایک نورانی کتاب ہے۔ جو کشتی نجات کی مانند زندگی کی تلاطم خیز موجوں میں انسان کی ہدایت و رہنمائي کرتی ہے۔ قرآن مجید میں بیان شدہ تعلیمات اس قدر عظیم ہیں کہ صاحبان عقل اور دانشمند افراد ان کے سامنے سر تعظیم خم کردیتے ہیں۔ قرآن کریم میں بیان شدہ دلکش اور لطیف مطالب حقیقت کے متلاشی مفکرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالیتے ہیں اور ان کو معرفت کے چشموں سے سیراب کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں علم و معرفت کے خزانوں اور انسانی و اخلاقی اقدار پر مبنی سبق آموز داستانوں کو بہت ہی خوبصورت الفاظ اور دلچسپ پیراۓ میں ذکر کیا گيا ہے۔ ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ خدا تعالی نے ہدایت کی آخری اور جامع ترین کتاب میں از حد خوبصورت الفاظ اور تعابیر کو عمدہ ترتیب دے کر ایک عظیم ادبی معجزے کو وجود بخشا ہے۔ ایران کے ایک عظیم عالم دین اور مرجع تقلید آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی کا کہنا ہے کہ قرآن کریم نے انسانی سماج کو حیات نو عطا کی ہے۔ قرآن مجید کے بیان کردہ حقوق اس قدر اٹل اور مستحکم ہیں کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کا ان کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حضرت علی ع نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا ہےکہ : خدا کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو کیونکہ یہ ایک بہت مضبوط رسی اور چمکتا ہوا نور ہے۔ قرآن شفا عطا کرنے والی اور بابرکت دوا ہے۔ یہ ایسا آب حیات ہے جو حق کے پیاسوں کی پیاس بجھاتا ہے۔ جو شخص بھی قرآن کا سہارا لیتا ہے قرآن اس کا تحفظ کرتا ہے۔ اور جو بھی اس کا دامن تھامتا ہے قرآن اس کو نجات دیتا ہے"قرآن کریم کے مستحکم قوانین اور اس کی عظیم براہین ایسی ہیں کہ کوئي بھی قرآن کریم میں تحریف نہیں کرسکا ہے۔ انسانوں نے قدیم زمانے سے ہی مختلف معاشروں میں بہت سے قوانین مدون کۓ اور بہت سے فکری اور اخلاقی نظام انسانیت کی ہدایت کے دعوے کے ساتھ وضع کۓ لیکن ان قوانین کا کوئي بھی مجموعہ زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکا اور ہمیشہ ترامیم کو ضروری سمجھا گيا اور عملی طور پر اس میں ترامیم کی گئيں۔ جبکہ قرآن کریم خدا تعالی کا کلام اور ایک ابدی حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جو وقت گزرنے کے ساتھ کہنہ اور پرانی نہیں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود قرآن کریم کے قوانین زندہ و پائندہ ہیں۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ ایسی عظیم کتاب کا نور اس کے خلاف شور مچانے اور چيخنے چلانے سے نہ صرف کم نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ نور زیادہ سے زیادہ افراد کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ خدا تعالی نے قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا ہے ۔لیکن الہی ادیان کے پیرو سبھی انسانوں کا فریضہ ہی کہ ٹیری جونز کی اس گستاخی کو محض ایک شخص کے کھاتے میں نہ ڈالیں اور اس کا ذاتی فعل نہ سمجھیں بلکہ اس گھناؤنے اقدام کے پیچھے جو مکار ذہن کام کررہا اس کو روکنے کوشش کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دین اور مذاھب سے بیزار قوتیں اگلے مرحلے میں دیگر آسمانی کتب اور ادیان الھی کو نشانہ بنائیں۔ .........

/110